All News

  • Home
  • Disclaimer
  • About
  • Privacy
  • Contact Us

ریض کی شناخت 22 سالہ یحیٰی جعفری کے نام سے ہوئی جو کہ ایران سے آیا تھا، مذکورہ مریض کو کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا



Image result for coronavirus treatment
کراچی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا، مریض کی شناخت 22 سالہ یحیٰی جعفری کے نام سے ہوئی
، مذکورہ مریض کو نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے ذریعے کرونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کے انکشافات سچ ثابت ہونے لگے۔ بتایا گیا ہے کہ کراچی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے۔

اس حوالے سے محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ مریض کی شناخت 22 سالہ یحییٰ جعفری کے نام سے ہوئی ہے جس کو علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یحییٰ جعفری ایران سے بس کے ذریعے پاکستان پہنچا تھا اور اسکے ساتھ اہل خانہ بھی موجود تھے جنکا بھی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالےسے ڈی جی ہیلتھ سندھ ڈاکٹر مبین کا کہنا ہے کہ مذکورہ مریض کو فوری طورپر آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اسکی نگہداشت کی جارہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ابھی مریض کے اندر کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، چار گھنٹے کے بعد حتمی رپورٹ سامنے آئیگی، جسکے بعد حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔ دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریض کو فوری طور پر آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ مریض کے ساتھ جہاز میں سفر کرنے والے دیگر افراد کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔

ایئرپورٹ صوبائی حکومت کے نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، ایئر پورٹ پر فوری طور پر سرویلنس بنانے کی ضرورت تھی۔ انکا مزید کہنا ہے کہ یحییٰ جعفری کو ایئر پورٹ پر اسکین نہیں کیا گیا تھا۔ اس خبر کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے دو کیسوں کی تصدیق کرتا ہوں، دونوں مریضوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انکا علاج جاری ہے۔


انھوں نے کہا کہ دونوں مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور حالات قابو میں ہیں۔ انکا مزید کہنا ہے کہ تمام ترحالات قابو میں ہیں، میں تافتان سے واپسی پر اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کرونگا۔
واضع رہے کہ ایران سے کرونا وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے بلوچستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ صوبے میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اقدامات کی نگرانی کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ایران سے منسلک اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ضلعی صحت افسران کو تمام احتیاطی تدابیر کی گئی 
Image result for coronavirus treatmentہے۔

  • 0 Comments
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کےخلاف احتجاج کے دوران ہنگاموں میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی۔بھارتی حکومت نے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دہلی کے شمال مشرقی علاقے کو فوجی چھانی میں تبدیل کردیا جہاں پیرا ملٹری فورسز کی 35 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔علاقے میں اسپیشل سیل،کرائم برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ مقامی پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں اتوار سے جاری ہنگاموں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔نئی دہلی پولیس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پرتشدد واقعات میں اب تک 10 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ نئی دہلی کے گرو تیج بہادر اسپتال کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہنگاموں میں 9 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں پولیس اہلکار رتن لال بھی شامل ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق شمال مشرقی علاقوں میں پرتشدد واقعات میں نیم فوجی دستوں اور پولیس کے کئی اہلکاروں سمیت 135 افراد زخمی ہو ئے ہیں۔گرو تیج بہادر اسپتال کے حکام نے بتایا کہ اسپتال میں 31 افراد کو لایا گیا جس میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق موج پور اور بابر پور کے علاقوں میں پرتشدد احتجاج جاری ہے جب کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو بھجن پورا کے علاقے سے آتشزدگی کی 45 کالیں موصول ہوئیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے حالات کو قابو میں لانے کے لیے پورے شمال مشرقی ضلعے میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔
دہلی کے مسلم علاقوں میں حملہ ابھی تک جاری ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ مصطفی آباد میں مسلم محلوں کی دکانیں جلائی جارہی ہے۔ دوپہر ایک بجے کراول نگر میں مسجدکو آگ لگادی گئی تھی۔کبیر نگر ، کردم پوری اور چاند باغ میں بھی غنڈ ہ گردی ابھی تک نہیں رک سکی ہے۔ زخمیوں کو علاج کیلئے باہر لے جانا مشکل ہورہاہے۔ گونڈ ہ چوک میں برکت علی نام کے شخص کو گولی لگ گئی ہے جسے ہسپتال لے جانا ناممکن ہوچکاہے۔مقامی ڈاکٹر گولی نہیں نکال پارہے ہیں۔ انہیں کہاجارہاہے ہسپتال لیکر جائیے۔لیکن وہاں تک ایمبو لینس کو پہنچنے نہیں دیا جارہاہے۔ فون کرکے کئی ایمبولینس کو بلوایاگیا لیکن دنگائیوں نے راستہ پر ہی روک دیا ہے۔ہنگاموں جھڑپوں میں 11 افراد ہلاک 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ دہلی کے گونڈہ چوک، مصطفی آباد، کردم پوری سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں زخمیوں کو ہسپتال لیجانا مشکل ہوچکاہے۔ دنگائی چاروں طرف موجود ہے اور ایمبولینس کو پہونچنے نہیں دے رہے ہیں۔ گونڈہ چوک سے حاجی اشرف نے ملت ٹائمز کو فون کرکے بتایاکہ بہار کے سیتامڑھی ضلع سے تعلق رکھنے والے برکت علی کو کل رات بھگو ادہشت گردوں کی گولی لگ گئی اور انہیں ہسپتال لیجانا ضرروی ہے لیکن ایمبولینس کو یہاں تک پہنچنے نہیں دیاجارہاہے۔ چاروں طرف سے راستے بند ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ایک گھر سے فائرنگ ہوئی جس میں برکت علی کو گولی لگ گئی۔ مقام ڈاکٹروں نے کہاکہ ہم گولی نہیں نکال سکتے ہیں۔ گنگار ام یا کسی بڑے ہسپتال میں لیجانا ہوگا۔ انہوںنے ایمبولینس کو فون کیا۔ لیکن باہر سڑک پر کھڑے غنڈوں اور دہشت گردوں نے ایمبولینس کو اندر جانے سے روک دیا اور پتھراﺅ کرکے واپس بھیج دیا۔ عثمان پور کی طرف سے زخمی شخص کو ہسپتال لیجانے کی کوشش ہوئی لیکن ادھر سے بھی پولس نے جانے نہیں دیا۔برکت کا علی کا تعلق سیتامڑھی ضلع کے کنہواں گاں سے ہے وہ گونڈہ چوک میں روزگار سے وابستہ تھے۔واضح رہے کہ دہلی کے مسلم علاقوں میں حملہ ابھی تک جاری ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ مصطفی آباد میں مسلم محلوں کی دکانیں جلائی جارہی ہے۔ دوپہر ایک بجے کراول نگر میں مسجدکو آگ لگادی گئی تھی۔کبیر نگر ، کردم پوری اور چاند باغ میں بھی غنڈ ہ گردی ابھی تک نہیں رک سکی ہے۔ 30 گھنٹہ تک گزر جانے کے باوجود فساد اور آگ زنی مسلسل جاری ہے۔ بھجن پور ہ علاقے میں واقع شیو وہار میں بھی حالات خراب ہوگئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مسلم گھروں پر پتھر ا ﺅاور فائرنگ کی جارہی ہے۔ بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔ شیوہار کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہاں فیز 7 میں دن کے دو بجے سے دنگائیوں اور دہشت گردوں نے حملہ کردیا اور مسلم گھروں کو نشانہ بنالیا۔ دہشت گرد اور شر پسند عناصر مسلم گھروں پر لگاتار فائرنگ کررہے ہیں۔ پتھرا کررہے ہیں۔ ایک مسجد کو بھی یہاں نقصان پہنچایاگیاہے او رابھی بجلی بھی وہاں کاٹ دی گئی ہے۔ ڈی سی پی کو لوگ فون کررہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں مل رہاہے۔ پولس بھی یہاں موجود نہیں ہے۔جعفرآباد میٹرو اسٹیشن کے عین نیچے خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ خواتین یہاں دھرنے پر بیٹھی ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مردوں نے انہیں حفاظتی گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار بھی موجود ہیں جو مظاہرین سے یہاں سے جانے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ خواتین کا مطالبہ ہے کہ جمناپار کے علاقے میں ہوئے فساد اور مسلمانوں پر حملہ کیلئے کپل مشرا ذمہ دار ہے اسے فورا گرفتار کرو۔ذرائع سے یہ بھی خبر ملی ہے کہ کپل مشرا نے دہلی الیکشن ہارنے کے بعد ہی فساد کی تیاری شروع کردی تھی اور منظم منصوبہ بندی کے بعد اس نے اسے انجا م دیاہے۔ دوسری طرف علاقہ کے ڈی سی پی نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ جبکہ مظاہرین نے دھرنے سے اٹھنے سے انکار کر دیا ہے۔دہلی کے علاقے اشوک نگر میں ہندوانتہا پسندوں نے مسجد پر حملہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتہا پسند ہندوں کے حملوں میں مزید شدت آگئی۔ آر ایس ایس کے غنڈوں نے دہلی میں مساجد کو بھی شہید کرنا شروع کردیا۔ ہندوانتہا پسندوں نے اشوک نگر کی مسجد میں لاڈ اسپیکر اکھاڑ دیئے اور مینار پر بھارتی جھنڈے لہرا دیئے۔دہلی میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں کے گھروں کو بھی جلا کر راکھ کردیا۔ اس حوالے سے مسلمانوں کو کہنا ہے کہ نئی دہلی پولیس نے انتہا پسند ہندوں کو روکنے کی بجائے ان کا ساتھ دیا۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دریائے جمنا کے دوسری جانب واقع شمال مشرقی علاقوں میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور اس قانون کے حامیوں کے مابین ہونے والے پرتشدد واقعات میں مزید ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد اب سات ہو گئی ہے۔ جعفرآباد، موج پور، سلیم پور اور چاند باغ سے تشدد اور ہنگاموں کی اطلاعات ملی ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں موجود مجمع کو سنبھالنے کے لیے پولیس کی نفری کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور جب انھوں نے لاٹھی چارج شروع کیا تو وہاں پر بھگدڑ مچ گئی۔نئی دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے وزیر داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے امن کی اپیل کی اور کہا کہ قانون کی بالادستی قائم کرنے میں مدد کریں۔لیفٹننٹ گورنر انیل بئیجل نے دہلی کے پولیس کمشنر کو حکم دیا کہ امن و امان بحال کرنے کی پوری کوششیں کی جائیں۔دہلی میں شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں جب کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے انتہا پسندوں نے پولیس کے ساتھ مل کر مظاہرین پر تشدد کیا، مسلمانوں کے مکانات، دکانیں اور گاڑیاں جلا دی گئی ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے دہلی کے شمالی مشرقی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ بی جے پی کے شرپسندوں نے مسلمانوں درجنوں دکانیں، مکانات، گاڑیاں اور کئی پیٹرول پمپس کو نذرآتش کر دیا ہے۔مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس نے بی جے پی کے حامیوں کو کھلی چھٹی دی رکھی ہے جبکہ مودی مخالف مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔حالات قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دہلی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ہجوم کو بھڑکانے پر بی جے پی کے رہنما کپل مشرا کے خلاف دو شکایات درج کی گئی ہیں۔
  • 0 Comments
سہالہ پھاٹک عوام الناس کا دیرنہ مسلہ ہے جس کی وجہ سے آئے دنوں گھنٹوں کا ٹریفک جام لگا رہتا ہے۔ 
یاد رہے کہ سہالہ پھاٹک  کشمیر ، کہوٹہ جانے والا واحد راستہ ہے جس پر بےحد ٹریفک ہوتی ہے اور دن میں بار ہا مرتبہ پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے مریز بر وقت ہسپتالوں میں بھی نہیں پہنچ سکتے۔ 
کئی مرتبہ سننے میں آیا ہے کہ سہالہ پھاٹک کے پُل کی منظوری دے دی گئی ہے لیکن کام کب شروع ہو گا اس سے متعلق کھبی کو ئی خبر منظر عام پر نہیں ائی۔ 
موجودہ حکومت سے عوام کو بہت سی اور بھی اُمیدیں ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی اُمید ہے کہ اس دیرینہ مسلہ کو جلد حکومتی اعوانوں میں پیش کیا جاَئے گا اور جلد ہی  اس پر کام شروع کیا جاَئے گا۔
  • 0 Comments

ویڈیو میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے لیگی ایم پی اے رانا شعیب ادریس کی جانب سے اسلحے کی کھلم کھلا نمائش

 رکن پنجاب اسمبلی کی اسلحے کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیو وائرل، ویڈیو میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے لیگی ایم پی اے رانا شعیب ادریس کی جانب سے اسلحے کی کھلم کھلا نمائش۔ تفصیلات کے مطابق قانون کو بنانے والے ہی قانون کی دھجیاں اڑانے لگے۔
یہ واقعہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے فیصل آباد کے ایک رکن قومی اسمبلی کا ہے جو کہ اسلحے کی کھلم کھلا نمائش کررہے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رانا شعیب ادریس کسی گلی سے گزر رہے ہیں اور انھوں نے ہاتھ میں ایک عدد پستول پکڑ رکھی ہے اور وہ یہ پستول اپنے ہی ساتھی کو تھما رہے ہیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ انکے ساتھی بھی اسلحہ بردار ہیں جو کہ انکے ساتھ چل رہے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے اسلحے کی کھلم کھلا نمائش پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
  • 0 Comments
اپٹما نے ملک بھر کی ٹیکسٹائل ملیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا، ملیں بند ہونے سے پنجاب میں10لاکھ مزدور بے روزگار ہوسکتے ہیں۔اپٹما عہدیدرا
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان بجلی بل پر تنازع شدت اختیار کرگیا ہے، اپٹما نے ملک بھر کی ٹیکسٹائل ملیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا، ملیں بند ہونے سے پنجاب میں10لاکھ مزدور بے روزگار ہوسکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپٹما اور حکومت کے درمیان بجلی بل پرمذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔
ڈیسکوز نے ملک بھر کی ٹیکسٹائل ملوں کو بجلی کے بقایا جات بل یکمشت بھجوا دیے ہیں۔ اپٹما عہدیدران کا کہنا ہے کہ تمام ملزمالکان نے ان کو بلز کو مسترد کردیا ہے اور بل دینے سے انکار کردیا ہے۔ اپٹما عہدیدران نے کہا کہ کروڑوں روپے اضافی بل ادا نہیں کرسکتے۔ ان حالات میں ٹیکسٹائل ملز نہیں چلائی جاسکتیں۔ اپٹما نے مطالبات پورے نہ ہونے پر ملک بھر کی ٹیکسٹائل ملیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
جس سے پنجاب میں 10لاکھ مزدور بے روزگار ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے اپٹما کی جانب سے احتجاجی طور پر ملیں بند کرنے کی تاریخ کا فی الحال اعلان نہیں کیا گیا۔ واضح رہے آج وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت جلی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی لانے کے حوالے سے اہم اجلاس بھی ہوا، جس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے معیشت کی ترقی پر پڑنے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صارفین اور صنعتوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی ہے۔ توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے آئندہ چھ ہفتوں میں وژن ماسٹر پلان ترتیب دینے کا عمل مکمل کیا جائے اور آئندہ مہینوں میں شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کی آمد کے پیش نظر ان کی سہولیات کے لئے پیشگی منصوبہ بندی اور انتظامات کیے جائیں۔
یہ ہدایات انہوں نے ملک میں ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ، سینئر افسران اور تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ پنجاب اور ملک کے ساحلی علاقوں میں سیاحت کے فروغ ،گلگت بلتستان اور شمالی علاقہ جات میں سیاحتی توجہ کا مرکز قدیم عمارات کے تحفظ اور تزئین و آرائش اور ماحول دوست سیاحت کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں سیاحت کے حوالے سے زوننگ کا کام مکمل کر لیا گیا۔
  • 0 Comments
پاک فضائیہ نے27 فروری کے حوالے سے نیا نغمہ "اللہ اکبر" جاری کر دیا ہے۔ 27 فروری کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کی مانند ہے جس میں پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں دشمن پر کامیاب حملہ کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان فضائیہ نے 27 فروری کی مناسبت سے ایک خون گرما دینے والا شاندار نغمہ " اللہ اکبر" جاری کر دیا ہے۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق 27 فروری پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کی مانند ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا دن ہے جب پاک فضائیہ نے سورج کی روشنی میں دشمن پر ایک کامیاب جوابی حملہ کیا، اس حملے میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن فورسز کے دو لڑاکا طیاروں کو بھی تباہ کیا جبکہ ابھی نندن نامی ایک پائلٹ کو گرفتار بھی کیا جسے بعدازاں جذبہ خیر سگالی کے طور پر چھوڑ دیا گیا۔

 زیر بحثپی ایس ایل 5کرونا وائرس کی دہشت
پاک فضائیہ نے27 فروری کے حوالے سے نیا نغمہ ”اللہ اکبر“ جاری کر دیا
27 فروری پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کی مانند ہے جس میں پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں دشمن پر کامیاب حملہ کیا تھا۔ ترجمان پاک فضائیہ
Kamran Haider Ashar کامران حیدر اشعر  منگل 25 فروری 2020  05:33

پاک فضائیہ نے27  فروری کے حوالے سے نیا نغمہ  ”اللہ اکبر“ جاری کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 25 فروری 2020ء) پاک فضائیہ نے27 فروری کے حوالے سے نیا نغمہ "اللہ اکبر" جاری کر دیا ہے۔ 27 فروری کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کی مانند ہے جس میں پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں دشمن پر کامیاب حملہ کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان فضائیہ نے 27 فروری کی مناسبت سے ایک خون گرما دینے والا شاندار نغمہ " اللہ اکبر" جاری کر دیا ہے۔
 

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق 27 فروری پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کی مانند ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا دن ہے جب پاک فضائیہ نے سورج کی روشنی میں دشمن پر ایک کامیاب جوابی حملہ کیا، اس حملے میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن فورسز کے دو لڑاکا طیاروں کو بھی تباہ کیا جبکہ ابھی نندن نامی ایک پائلٹ کو گرفتار بھی کیا جسے بعدازاں جذبہ خیر سگالی کے طور پر چھوڑ دیا گیا۔
(جاری ہے)



مزید تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے 27 فروری کی مناسبت سے نیا نغمہ جاری کر دیا ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز گلوکار شجاع حیدر نے اپنے تخلیق کردہ نغمے ’’اللہ اکبر‘‘ میں اپنی آواز کا جادو بھی جگایا ہے۔ اس نغمے میں پاک فضائیہ کے شیر دل جوانوں کی بے مثال بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ یہ نغمہ پاکستانی قوم کے عزم و حوصلے کی لازوال داستان ہے جس نے ہر قسم کے مشکل حالات کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 27 فروری کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ملکی حدود میں گھسنے والے 2 بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا جب کہ ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔ بھارت کی جانب سے 26 فروری 2019ء کو پاکستانی حدود میں  بالا کوٹ کے مقام پر ایک نام نہاد جھوٹا آپریشن کیا گیا جس میں بھارتی حکام کی جانب سے متعدد افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا جاتا رہا تاہم تحقیقات سے پتا چلا تھا کہ بھارتی خفیہ آپریشن میں درختوں کے علاوہ کوئی بھی چیز نشانہ نہ بنی تھی کیونکہ بھارتی طیارے جنگل میں ہی پے لوڈ پھینک کر فرار ہو گئے تھے۔
نام نہاد بھارتی آپریشن کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے فوری طورپر ایک بیان دیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم جلد ہی سرپرائز دیں گے اور  24 گھنٹے کے اندر پاک فضائیہ نے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے دو طیارے مار گرائے تھے جبکہ اسی دوران بوکھلاہٹ کی شکار بھارتی فوج نے اپنا ہی ایک ہیلی کاپٹر خود مار گرایا تھا۔
  • 0 Comments
بھارت میں ایک موسیقار نے خودکشی کرنے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔تفصیلا ت کے مطابق ایک بھارتی گلوکار نے اپنی فیس بک لائیو ویڈیو میں دھمکی دی کہ وہ خودکشی کر لے گا ۔ویڈیو اس کے ایک دوست نے دیکھ لی جس کے بعداس نے فوراََ پولیس کا اطلاع کی اور پولیس نے بروقت کارروآئی کرتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور گلوکار کو بچا لیا۔
گلوکار کے دوست کی شکایت کے بعد پولیس فوراََ اس کے گھر پہنچی اور ایک گھنٹے تک موسیقار کا سمجھایا۔پولیس کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسیقار اپنے کیرئیر کی وجہ سے پریشان ہے کیونکہ اسے کامیابی نہیں مل رہی، وہ پریشان ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو سپورٹ نہیں کر پا رہا۔ موسیقار نے مزید بتایا ہے کہ اس کا بینڈ بھی موجود ہے لیکن ابھی تک وہ اس سے اتنی رقم کمانے میں کامیاب نہیں ہوئے جس سے وہ ایک اچھی زندگی گزار سکیں۔
پولیس جب موسیقار کے گھر پہنچی تو وہاں اس کی والدہ اور وہ گھر پر تھے۔والدہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا گزشتہ 10 سال سے نام کمانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی۔والدہ نے بات کرتے ہوئے مزید بتایا ہے کہ ہم کسی رشتہ دار کے گھر میں رہ رہے ہیں، ہمارے پاس رہنے کے لئے اپنا گھربھی نہیں، اسی لئے میرا بیٹا مایوسی کے عالم میں رہتا ہے۔
اس موقع پر پولیس نے پہنچ کر اپنا فرض ادا کیا جس کے بعد موسیقار کو سمجھایا گیا کہ وہ غلط کرنے جا رہا تھا۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ بھارت میں پیش آیا جہاں ایک موسیقار نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔اپنی فیس بک لائیو ویڈیو میں موسیقار نے دھمکی دی کہ وہ خودکشی کر لے گا، اس کے دوست نے ویڈیو دیکھ کر پولیس کو اطلاع کی جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر موسیقار کی جان بچا لی۔
  • 0 Comments
Older Posts Home

Zetads

کرونا وائرس کا پہلا کیس پاکستان میں سامنے آگیا

ریض کی شناخت 22 سالہ یحیٰی جعفری کے نام سے ہوئی جو کہ ایران سے آیا تھا، مذکورہ مریض کو کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا کر...

About Us

a


Urdu Newzz

"The most important thing is to enjoy your life — to be happy — it’s all that matters.”


recent posts

instagram

All Right Reserved : UNewzz Theam Configured By:

Back to top