اجمل قصاب کے بارے میں ممبئی پولیس کے سابق کمشنر راکیش ماریا کی کتاب میں انکشافات پر انڈیا میں ہلچل

اجمل قصاب


اجمل قصاب

تم کیسے ہو لڑکے؟؟ تم ہو کہاں کے؟
جب ممبئی پولیس کے جوائنٹ چیف راکیش ماریا نے پنجابی لہجے میں یہ سوال پوچھا تو ان کا مخاطب شخص ایک لمحے کے لیے دنگ رہ گیا۔
اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک ابھری اور اس نے جواب دیا ’اوکاڑہ‘۔ اوکاڑہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے اور راکیش نے اپنے سسر سے اس کے بارے میں سن رکھا تھا۔
اوکاڑہ کے بارے میں کچھ اور معلومات اکھٹی کرنے کے بعد راکیش پوچھ گچھ کے لیے واپس آئے۔

کچھ مزید دباؤ کے بعد انھیں اگلا جواب ملا کہ ’اگر میری شناخت ہو گئی تو انڈیا اور امریکہ میرے گاؤں کو بموں سے اڑا دیں گے۔‘
راکیش سوچتے ہیں کہ اگر اس رات سب کچھ سامنے بیٹھے شخص کے مطابق ہوتا تو وہ شخص ایک 'ہندو دہشت گرد' کی حیثیت سے مر جاتا۔
اس کا نام سمیر دنیش چوہدری بتایا گیا تھا۔ اس کا شناختی کارڈ ارونودایہ ڈگری کالج حیدر آباد کا اور گھر کا پتا 254، ٹیچرز کالونی،نگر بھاوی، بنگلور تھا تاہم یہ سب جعلی تھا۔
کیونکہ اس رات راکیش ماریا کے سامنے جو شخص موجود تھا وہ اجمل قصاب تھا جو ان دس حملہ آوروں میں سے ایک تھے جنھوں نے 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں حملے کیے۔
راکیش ماریا کا نام اجمل قصاب اور ممبئی حملوں کے حوالے سے شہ سرخیوں میں رہا تھا۔

راکیش
ہوم گارڈز کے ڈائریکٹر جنرل اور ممبئی کے پولیس کمشنر کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے راکیش ماریا نے اس حوالے سے اپنے حصے کی کہانی اپنی کتاب میں سنائی ہے جس کا نام 'لیٹ می سے اٹ ناؤ' یعنی ’اب مجھے کہنے دو‘ ہے۔

'ورنہ سب کچھ جعلی ہو گا‘

راکیش اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’اگر اجمل قصاب اپنے جعلی شناختی ڈی کارڈ کے ہمراہ مر جاتا تو اخبارات چیخ رہے ہوتے کہ ایک ہندو دہشت گرد کیسے ممبئی حملے کر سکتا ہے۔ ٹی وی چینلز کے صحافی بنگلور میں ان کے خاندان اور ہمسایوں سے انٹرویو لینے کے لیے اکھٹے ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ فرید کوٹ، پاکستان کا اجمل قصاب میرے سامنے بیٹھا تھا اور میں اس سے پوچھ رہا تھا ’کی کرن آیا ایں‘ یعنی تم کیا کرنے آئے ہو۔
راکیش لکھتے ہیں کہ ’قصاب نے آہستہ آہستہ حملے کے لیے بھرتی ہونے سے لے کر ممبئی داخل ہونے تک تمام باتوں سے پردہ ہٹایا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ قصاب اور ان کے ساتھی ’الحسینی‘ نامی کشتی پر ممبئی کے پانیوں میں داخل ہوئے تھے۔
’یہ نام 1993 میں ممبئی بم حملے کے مقدمے میں بھی سنا گیا تھا۔ مرکزی ملزم ٹائیگر میمن کے فلیٹ کے بلاک کا نام بھی الحسینی ہی تھا۔‘ پولیس کے مطابق سازش اسی عمارت میں بنائی گئی تھی۔

’غدار کون ہے؟‘

راکیش نے قصاب کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے کچھ معلومات ظاہر کی ہیں جو پہلے کہیں بتائی نہیں گئی تھیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ: ’کرائم برانچ کا جوائنٹ کمشنر ہوتے ہوئے میری اولین ترجیح تھی کہ قصاب کو زندہ رکھنا ہے۔ لوگوں اور افسران کا ان کی طرف رویہ دیکھ کر میں نے خود ان کے چوکیداروں کا انتخاب کیا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آئی ایس آئی اور لشکر کے لوگ انھیں ویسے بھی قتل کرنا چاہتے تھے تاکہ حملے کا واحد ثبوت مٹایا جا سکے۔ ہمیں انڈیا کی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ قصاب کی سکیورٹی کے حوالے سے تمام ذمہ داری ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کی ہے۔‘
’مرکزی انٹیلیجنس اداروں کو موصول ہونے والی معلومات میں ظاہر ہوا کہ پاکستان نے قصاب کو قتل کرنے کی ذمہ داری داؤد ابراہیم کے گینگ کو دی تھی۔ اگر انھیں کچھ ہوتا تو نہ صرف میری نوکری چلی جاتی بلکہ ممبئی پولیس کی ساکھ بھی داؤ پر تھی۔‘
اجمل قصاب
قصاب کی دو تصاویر انٹرنیٹ پر کافی زیادہ استعمال کی گئیں۔
قصاب کی ایک تصویر، جس میں انھوں نے اے کے 57 ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے، چھترپتی شیواجی ٹرمینس کی ہے جبکہ دوسری ممبئی کے پولیس سٹیشن کی۔
دوسری تصویر کے بارے میں ماریا لکھتے ہیں کہ ’ہم نے ان کی تصویر بناتے وقت کافی دھیان رکھا تھا کہ کوئی تصویر میڈیا میں نہ جائے۔ جب کرسی پر بیٹھے قصاب کی تصویر میڈیا پر چلی تو ہم حیران رہ گئے۔‘
’میں نے تمام افسران کو بلا کر پوچھا کہ کون ہے، تو سب نے انکار کر دیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کے چہروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سچ بول رہے ہیں۔ پھر انھیں بتایا گیا کہ مرکزی ایجنسیوں نے اپنے ایک افسر کو ممبئی بھیجا ہے کہ قصاب سے تفتیش کریں۔
ماریا کے مطابق اس سے مراد سرحد کے اُس پار پیغام بھیجنا تھا کہ قصاب انڈیا کی حراست میں ہے۔ یہ ضروری تھا کیونکہ پاکستان حملے سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا تھا۔
پاکستان نے ابتدائی طور پر قصاب کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم حملے کے کچھ ماہ بعد پاکستان کی حکومت نے قصاب کو اپنا شہری تسلیم کر لیا تھا۔ پھر ایک مقامی نیوز چینل نے دعویٰ کیا کہ قصاب مرکزی پنجاب کے گاؤں فرید کوٹ کے رہائشی ہیں۔

ممبئی دھماکے

ممبئی حملے میں 166 افراد مارے گئے تھے سو ایک خصوصی عدالت نے اجمل قصاب کو 166 مقدمات میں مجرم قرار دیا۔ ان پر 86 فردِ جرم عائد ہوئیں اور چھ مئی 2010 کو انھیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
پانچ نومبر 2012 کو صدر نے اجمل قصاب کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی اور پھر 21 نومبر 2012 کو صبح سات بجے اجمل قصاب کو پونے میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

’قصاب کو انڈیا کی سمجھ بوجھ نہیں تھی!‘

ماریا لکھتے ہیں ’قصاب کو بچپن سے بتایا گیا تھا کہ انڈیا پاکستان کا دشمن ہے۔ انھیں انڈیا یا دنیا کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں تھا۔
’ان کا ماننا تھا کہ انڈیا، امریکہ اور اسرائیل، پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں اور یہ کہ انڈیا میں موجود مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں اور حکام نے مساجد میں تالا لگا دیا ہے۔
’جب کرائم برانچ کے لاک اپ میں اذان کی آواز سنائی دیتی تو انھیں وہ ایک خواب لگتا تھا۔ اس کا علم ہونے پر میں نے ایک گاڑی میں قصاب کو میٹرو سنیما کے قریب والی مسجد لے جانے کو کہا اور اپنی آنکھوں سے لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔‘
سنہ 2008 میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان اجمل قصاب کے گاؤں پہنچے جب ان پر مقدمہ چل رہا  تھا۔ بی بی سی نے پہلی بار ان کا گھر دکھایا اور اجمل قصاب کی پھانسی کے بع
بی بی سی کی نمائندہ شمائلہ جعفری اجمل قصاب کے گاؤں پہنچیں جہاں لوگوں نے ان سے صحیح انداز میں بات نہیں کی۔

چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی کے مختلف ہوٹلوں اور دوسرے عوامی مقامات پر حملوں کے بعد واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل قصاب کو بھارت کے شہر پونے کی یروڈا جیل میں ٹھیک چار سال بعد اکیس نومبر دو ہزار بارہ کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔تاہم چار سال گزر جانے کے بعد بھی ان کے آبائی شہر کہے جانے والے فرید کوٹ کے کئی رہائشی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اجمل ان کے علاقے میں رہتے تھے۔
پھانسی کے بعد بھی علاقے کے رہائشیوں نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
اجمل قصاب کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے ایک گاوں فریدکوٹ سے بتایا جاتا ہے۔ لاہور سے فرید کوٹ کا فاصلہ تقریباً ایک سو ساٹھ کلومیٹر ہے۔ جب قصاب کی پھانسی کے بعد ہم نے اس کے آبائی علاقے کے لوگوں کے تاثرات جاننے کے لیے فریدکوٹ کا رخ کیا تو ذہن میں عجیب کشمکش تھی۔
ماضی میں اس علاقے میں میڈیا کی پہنچ کو محدود کرنے کے لیے کبھی صحافیوں کو دھمکیاں ملیں، کبھی کیمرے چھینے گئے تو کبھی مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اپنی خبر کو مکمل کرنے کا تجسس خطرات اور مشکلات کا احساس ہونے کے باوجود ہمیں فرید کوٹ لے ہی گیا۔
قصاب کا گاؤں بھی وسطی پنجاب کے دیہاتوں کی طرح بہت پسماندہ نہیں۔ اجمل کے محلے کے باہر اس وقت بھی ایک کشادہ سڑک زیرِ تعمیر ہے۔ دل میں یہ خوف لیے کہ شاید علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی لوگ ہمارے ہاتھ میں کیمرہ دیکھ کر ہم پر حملہ آور نہ ہوجائیں، ہم اس گلی میں داخل ہوئے جہاں اجمل کا آبائی مکان ہے۔ محلے میں کچھ بھیڑ تھی اور بچوں کا ایک ہجوم کیمرا دیکھ کر ہمارے ساتھ ہو لیا۔ خواتین اپنے گھروں کے پردوں کے پیچھے سے ہمیں جھانکتی رہیں، کریانے کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر کھڑے مرد کچھ ناراضگی سے ہمیں گھورتے رہے۔
ڈرتے ڈرتے گلی میں کھڑے کچھ لوگوں سے میں نے یہ سوال کیا کہ اجمل کا گھر کون سا ہے۔ کسی نے نفی میں سر ہلایا تو کوئی منہ پھیر کر پرے ہوگیا۔ جب یہی سوال میں نے گلی میں کھڑے ایک بچے سے دہرایا تو اس نے آگے کی طرف ایک سبز دروازے کی طرف اشارہ کردیا۔

ایک اونچی سی دیوار اور سبز روغن والا دروازہ اجمل قصاب کے گھر کا حصہ تھے
مکان کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان پر بیٹھے ایک عمر رسیدہ شخص شفقت اعجاز سے اجمل اور ان کے خاندان کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا ’میری عمر ساٹھ سال ہے، میری پیدائش اور پرورش اسی علاقے میں ہوئی ہے لیکن میں اس نام کے کسی شخص سے واقف نہیں، میرے سر پر کوئی قرآن بھی رکھے تو میں یہی کہوں گا میں نے اجمل قصاب کو نہیں دیکھا۔ یہ سب ڈراما کیا جارہا ہے۔‘ میں نے سوال کیا کہ یہ ڈراما کیوں کیا جارہا ہے تو شفقت بولے،’ ہمارے علاقے کو بدنام کرنے کے لیے۔‘
مکان کے باہر مقامی لوگوں کا ایک ہجوم سا تھا۔ میں نے باہر کھڑے ایک نوجوان محمود اسلم سے پوچھا آپ اجمل قصاب کو جانتے ہیں تو محمود کا کہنا تھا ’ہم یہیں کے رہنے والے ہیں، ہم نے میڈیا سے اس کے بارے میں سنا ہے، یہاں کئی ٹیمیں آئیں اور سروے ہوئے اور مسئلہ بھی بنا، لیکن یہ سب افواہ ہے، ہم یہی کہتے آئے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے وہ اس علاقے کا نہیں ہے۔‘
ایک اونچی سی دیوار اور سبز روغن والا دروازہ اجمل قصاب کے گھر کا حصہ تھے۔ کچھ لوگ مکان کا دروازہ کھول کر ہمیں اندر لے گئے۔ وہاں مخصوص دیہی ماحول کے مطابق وسیع و عریض صحن تھا جس میں جانور بندھے تھے، پاس ہی کچھ نئے تعمیر شدہ کمرے بھی تھے۔ قصاب کا خاندان اب اس مکان اور علاقے میں موجود نہیں اب یہاں کوئی اور خاندان رہائش پذیر ہے۔
"
یہ ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا علاقہ ہے، یہاں لوگ آتے بھی ہماری مرضی سے ہیں اور جاتے بھی ہماری مرضی سے ہی ہیں، آپ کس سے پوچھ کر آئے ہیں اور یہاں کیوں فلم بنا رہے تھے"
مقامی یونین کونسل کے سابقہ ناظم غلام مصطفی وٹو
صحن میں کھڑے ایک شخص سے میں نے اس کی شناخت پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کا نام عادل ہے اور فرید کوٹ اس کا آبائی علاقہ ہے۔ عادل کا کہنا تھا اجمل قصاب کو اس نے تصویروں میں دیکھا ہے ’وہ تو پاکستانی ہی نہیں، جب پاکستان سے ہی اس کا تعلق نہیں تو فرید کوٹ سے کیسے ہوسکتا ہے، یہ سب ہمارے علاقے کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔‘
بی بی سی کی ٹیم ابھی اجمل قصاب کے مکان کی عکس بندی کر رہی تھی کہ اچانک کچھ لوگ صحن میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک شحض نے کیمرا مین کو جھنجوڑا اور اسے فوری طور پر علاقے سے نکل جانے کو کہا۔ اس تنبیہ کے فوراً بعد ہم نے کیمرا بند کیا اور واپسی کی راہ لی ـ
لیکن اس سے پہلے کہ ہم اپنی گاڑی تک پہنچتے، مقامی یونین کونسل کے سابقہ ناظم غلام مصطفی وٹو اپنے ساتھ پولیس کی نفری لیے ہمارے سامنے آکھڑے ہوئے۔ وٹو صاحب کا کہنا تھا ’ یہ ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا علاقہ ہے، یہاں لوگ آتے بھی ہماری مرضی سے ہیں اور جاتے بھی ہماری مرضی سے ہی ہیں، آپ کس سے پوچھ کر آئے ہیں اور یہاں کیوں فلم بنا رہے تھے۔‘
جس پر ہم نے انھیں یقین دلایا کہ جب ہمیں ریکارڈنگ بند کرنے کے لیے کہا گیا ہم نے کام بند کر دیا اور اب ہم واپس جانا چاہتے ہیں لیکن وٹو صاحب اور ان کے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ ہم اپنے کیمرے سے فلم ضائع کریں۔
ابھی یہ قضیہ جاری تھا کہ وٹو صاحب اور ان کے حواریوں کو اطلاع ملی کہ ایک اور میڈیا ٹیم قصاب کے محلے پہنچ گئی ہے۔ وٹو صاحب کی توجہ ہم سے ہٹی تو ہم نے غنیمت اسی میں جانی کہ فوراً قصاب کا علاقہ چھوڑ کر اپنے علاقے کا رخ کیا جائے، اس سے پہلے کہ ایک اہم خبر کو کرتے کرتے ہماری اپنی خبر بن جائے۔ آخر پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ہونے کا ’اعزاز‘ بھی تو حاصل ہے۔
فرید کوٹ
قصاب کے گھر کا پوچھنے پر کچھ بچوں نے شمائلہ کو ایک گھر میں بھیج دیا۔ گھر میں خاموشی تھی۔ تاہم جب کیمرہ مین نے گھر کی تصویر لینے کی کوشش کی تو کچھ لوگ وہاں پہنچ گئے اور بی بی سی کی ٹیم کو واپس جانے کا کہا جبکہ گلی میں موجود کچھ لوگوں نے اجمل قصاب سے متعلق معلومات دینے سے انکار کیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق قصاب نامی کوئی شخص نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ ’پاکستان کو بدنام کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے۔‘

سیاسی بیان

راکیش ماریا کی کتاب میں ان انکشافات کے بعد سیاسی بیان بھی آنا شروع ہو گئے۔
یونین وزیر پیوش گوئل نے کہا ’ماریا اب یہ سب باتیں کیوں بول رہے ہیں۔ انھیں یہ سب باتیں تب کہنی چاہییں تھی جب وہ پولیس کمشنر تھے۔ درحقیقت سروس قوانین کے مطابق اگر سینیئر پولیس آفیسر پر لازم تھا کہ وہ ایسی معلومات کو خفیہ رکھیں تو انھیں اس پر عمل کرنا چاہیے۔
’میرے خیال میں کانگریس نے ایک گہری سازش کی ہے۔ میں کانگریس اور ان سب افراد کی مذمت کرتا ہوں جنھوں نے ہندو دہشت کے غلط الزامات سے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں۔‘
بی جے پی کے رہنما رام مادھو نے کہا ہے ’یہ کتاب ظاہر کرتی ہے کہ آئی ایس آئی کی سازش کامیاب نہیں ہوئی لیکن کانگریس کے کچھ لوگوں نے اسے اس وقت میں کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ کچھ دانشوروں نے ممبئی حملوں کو آر ایس ایس سے منسوب کرنے کی کوشش کی، ان لوگوں کو کانگریس کی رہنمائی حاصل تھی۔‘
ممبئی کا تاج محل ہوٹل
کانگریس کی جانب سے ، ادھیر رنجن چودھری نے پیوش گوئل کے بیان پر ردعمل دیا۔ انھوں نے کہا کہ 'ہندو دہشت گردی' کی اصطلاح کو ایک مختلف نقطہ نظر میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے بعد پرگیہ ٹھاکر اور دیگر کو مکہ مسجد دھماکے کے کیس میں گرفتار کیا گیا۔ دہشت گرد حقیقی شناخت کے ساتھ حملہ نہیں کرتے ہیں۔ یو پی اے حکومت نے حملے سے متعلق تمام انکشافات کیے تھے اور اسی کے دور حکومت میں قصاب کو پھانسی دی گئی تھی۔
مہاراشٹر کے وزیر داخلہ اور این سی پی رہنما انیل دیش مکھ نے ماریا کی کتاب پر کہا ہے کہ ’راکیش ماریا نے اپنی کتاب میں جو لکھا ہے اس سے متعلقہ معلومات اکٹھا کریں گے۔ ہم ان سے بات کریں گے اور فرنویس حکومت کے دور میں ہونے والے واقعات کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔ اگر ضرورت ہو تو ، ہم انکوائری کا حکم دیں گے۔‘
بی جے پی کے رہنما جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا، ’ہم کانگریس کے 'ہندو دہشت گردی' کے خیال اور لشکر- آئی ایس آئی کے 26/11 حملے کی سازش کے مابین تعلق دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ہندوستان کا کوئی ہینڈلر آئی ایس آئی کی مدد کر رہا ہے، کیا دہشت گردوں کو ہندو شناخت دے رہے تھے، کیا دگ وجے سنگھ بطور ہینڈلر کام کررہے تھے، کانگریس کو اس کا جواب دینا چاہیے۔‘

You Might Also Like

0 Comments